HomeContact Us
 
بیماریوں کا بچاوٗ
New Page 1

                                                                                                                                                                                   

                  نیلی زُبان                                                                                          

                       Blue Tongue              


نیلی زُبان Blue tongue ریتلی مِکھی (Sand Fly)نامی مکھی اور مچھروں کی وجہ سے یہ متعدی بیماری گھر یلو حیوانات میں زیادہ تر بھیڑوں کو لگتی ہے ہماری ریاست میں اس بیماری نے پچھلے کئی سالوں سے سر اُٹھایا لیکن پھر بھی واضح طور پر اس کی علامات صادر نہیں ہو پائی ہیں۔حال ہی میں ہمارے چند علاقوں میں اس کے پھیلنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
یہ بیماری
۱۴سے زیادہ اقسام کے وائرس (Virus)سے وجود پاتی ہے۔کوئی جانور بیماری لگنے کے بعد صحت یاب ہو کر دوبارہ دوسری قسم کے وائرس کا شکار ہو کر بیمار ہوتا ہے۔لیکن یہ بات عیاں ہے۔کہ جس قسم کے وائرس سے پہلی بار کوئی جانور بیمار ہوا دوسری بار اُسی وائرس سے اس کے بیمار ہونے کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔یہ بیماری لگنے کے بعد علاج اور دیکھ بھال سے بھیڑ کے صحت یاب ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔نیلی زُبان کی یہ بیماری دھوپ میں شدت اختیار کرتی ہے،موسم گرما اور خزاں کے ابتدائی ایام میں چھوت لگنے کے دو ہفتوں کے اندرجانور پر بیماری کا اثر ہوتاہے۔

بیمار جانور کا درجہ حرارت
۱۰۵سے ۱۰۶ڈگری فارن ہائٹ (۵.۴۰سے ۴۱)سینٹی گریڈ تک جاتا ہے۔بخار لگنے کے ۴۸گھنٹے بعد بیمار جانور کی ناک سے پانی بہنے لگتا ہے۔منہ سے خون آلود لعاب بھی ٹپکنے لگتا ہے۔ہونٹ ،کان اور زبان متورم ہوجاتے ہیں۔منہ ،مسوڑوں اور زبان کے دائیں بائیں چھالے پڑتے ہیں اور جانور کھانے پینے سے محروم رہ جاتا ہے۔اس کے منہ سے بد بو آتی ہے اور زبان کا رنگ نیلا ہوتا ہے۔جانور سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے چنانچہ ایک منٹ میں ایک سو بار سانس لیتا ہے ۔جانور لنگڑا تا ہے،کبھی کُبھار اس کے دست لگتے ہیں اور پیچش سے بے قرار ہوتا ہے۔اس کے کُھر اور چمڑی پر سُرخ لکیریں پھوٹتی ہیں۔کُھروں میں دراڑیں پڑتی ہیں اور چمڑی گرنے لگتی ہے۔کبھی کبھار جانور کی گردن بھی مروڑکھاتی ہے۔اس کی آنکھیں سرخ پڑتی ہیں آنسو بہنے لگتے ہیں ،جانور کو نمونیا بھی ہو سکتا ہے۔بیماری کی شدت میں چھ دن کے اندر جانور مر سکتا ہے۔زمیندار لوگ ناواقفیت کی بنا ء پر اس بیماری کو منہ کھر پر محمول کرتے ہے۔
احتیاطی تدابیر
اس بیماری میں ٹیکے کوئی خاص فائدہ نہیں دیتے ہیں۔اس لئے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کی جائیں ۔
(
۱) بیمار بھیڑوں کو فوراًالگ کر دیجئے ۔
(
۲) مکھیوں اور مچھروں کو بھگانے کے لئے اِن بیمار جانوروں پر احتیاط سے دوائی والے پانی کا ہلکا چھڑکاؤ کیجئے جہاں یہ جانورہوں اس جگہ کی درودیوار کوبھی کیڑے مکوڑوں سے صاف کیا جائے اور صفائی کا از حد خیال رکھیں

(
۳) مچھروں کو بھگانے کے لئے دھواں بھی کار آمد ہو سکتا ہے۔
(
۴) جانوروں کے مسوڑوں اور زبانوں کو پوٹاشم پرمنگانیٹ (لال دوائی)سے دھویا کیجئے اور بوروگلیسرین بھی لگائیں۔
(
۵)کھروں کو شیر گرم پانی سے دھویا کریں اور بوریک ایسڈ (Boric Acid)مرہم لگالیجئے اور پوٹاشم ہائڈروآکسائڈ Potassium Hydroxide))ایک سے تین فیصد پانی سے صاف کریں ۔
(
۶)بیمار جانور کا درجہ حرارت دن میں تین بار جانچ لیا کریں
(
۷)ڈیکسڑوز سیلائن (Dextrose Saline)کا انجکشن جانور کو خون کی نالی کے ذریعہ لگوا لیجئے۔
(
۸) نرم اور زیادہ مقوی غذا جانور کو فراہم کیجئے۔
(
۹)شدید بیمار جانور کو چوکھر ،گندم شیر گرم پانی کے ساتھ ملا کر پلائیں اور نرم گھاس کھلائیں ۔ اس بیماری کی علامات معلو م یا محسوس ہونے پر فوراً نزدیکی شیپ ہسبنڈری کے توسیعی مرکز سے رابطہ قائم کیجئے۔
منہ کھر اور نیلی زبان کا موازنہ کرنے کے لئے ہمیں ان دونوں بیماریوں کے فرق کو جاننا چاہئے۔

 

منہ کھر

 

نیلی زبان

 

جانوروں کا درجہ حرارت بہت زیادہ نہیں ہوتا ہے ۔

درجہ حرارت ۱۰۵سے ۱۰۶ ڈگری فارن ہائٹ تک جاتا ہے

گرمی کے ا یام میں لگ جاتی ہے۔ریوڑ کے ریوڑ اس کی لپیٹ میں آتے ہیں۔

اوائل خزاں میں نمودار ہوتی ہے چند ہی جانور اس کے شکار ہوتے ہیں۔

چمڑی اور کھر کے جوڑ میں سرخ لکیر نہیں پھوٹتی ہے

کھر اور چمڑی کے جوڑ پر سرخ لکیر پھوٹتی ہے

سرخ لکیر نہیں پھوٹتی ہے

سرخ لکیر پھوٹتی ہے

ہونٹ ،منہ اور کان زیادہ نہیں سوجھتے ہیں

ہونٹ ،منہ اور کان سوجھ جاتے ہیں

اس کے پھیلاؤ کے لئے مچھر ذمہ دار نہیں

اس کے پھیلاؤ کے لئے مچھر ذمہ دار نہیں

اموات کی شرح کم رہتی ہے

اموات کی شرح زیادہ رہتی ہے



 







 

*****

داخلی نسل کشی کے مضر اثرات
(
INBREEDING)

داخلی نسل کشی نسل بڑھانے کا ایسا نظام ہے جس میں اوست درجہ کے بجائے والدین نزدیکی تعلق سے ہی بچے پیدا کرتا ہے۔ بچے والدین کے بجائے ہم جنس سے ہی پیدا کئے جاتے ہیں یہ ہم جنس حیاتیاتی جوڑے بڑھاتا ہے جو ناپسندیدہ عضویات ظا ہر کرتا ہے جبکہ یہ بصورت دیگرمخفی رہتاہے۔دوسرے الفاظ میں ہم جنس حیاتیاتی جوڑے میں زیادتی داخلی نسل کشی میں خلقی اثر اورمخفی قسم کے نا پسندیدہ خصائل ظہور پزیر ہونابچوں میں شکل نوع پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
داخلی نسل کشی کے نقصان دہ اثرات جانوروں میں حیاتیات میں پس روی کے عمل سے جانے جاتے ہیں۔ حیاتیاتی پس روی کا عمل ایک اچھے جانور کے لئے ناموافق ہے۔
داخلی نسل کشی کے بہت سارے ناموافق اثرات حیاتیاتی جوڑوں کی پس روی کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ان حیاتیات سے مختلف ہوتے ہیں جو پس روی کی حالات میں مہلک ہوتے ہیں ان حیاتیات کے مقابلہ میں جن میں قدرے معمولی ایسااثر ہو تا ہے جو مشکل سے دیکھا جاسکتا ہے یا کلی طور دیکھا ہی نہیں جاسکتا جس کے تھوڑے مضراثرات اس ایک وصف پر ہوتے ہیں یہ حیاتیاتی حرکت غالبًا کیمیائی خمیر پیدا نہ ہونے کی وجہ سے یا غیر متوازی پروٹین یا کوئی اور مرکب پیدا ہونے کے ذ ریعہ ہوسکتا ہےاسلئے بھیڑپالنے والے حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ جو مینڈھے محکمہ شیپ ہسبنڈری کی طرف سے اُن کو افزائش نسل کے لئے فراہم کیے جاتے ہیں وہ ان کو کم از کم ہر دو سال کے بعد محکمہ سے فراہم شدہ دوسرے بھیڑوں سے تبدیل کرائیں۔کیو نکہ ریوڑ میں ایک ہی نر بھیڑ کے استعمال سے داخلی نسل کشی کے مضر اثرات نمودار ہو سکتے ہیں جسکی وجہ سے مند ر جہ ذیل نقصا نات ہو نے کا اندیشہ ہے:۔
۱۔ شرع افزائش ماند پڑھ جاتی ہے ۔
۲۔میمنوں کی موت واقع ہوتی ہے۔
۳۔نسل پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
۴۔جسمانی بیماریوں کی قوت مز احمت کم ہو جاتی ہے۔ ۵۔بگڑی صورت کے میمنے پیدا ہوسکتے ہیں۔
۶۔اؤن کی پیداوار اور ریشہ کی لمبائی کم ہو جاتی ہے ۔
اس لئے بھیڑپالنے والے حضرات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ محکمہ کی افزائش نسل کی حکمت عملی کو کامیاب بنانے میں اپنا دست تعاون پیش کریں تاکہ بہتر نسل کے تندرست بھیڑوں کی افزائش ہو سکے اور نسل کشی کے لئے رکھے ہوئے مینڈھوں کومقررہ دو سال کے فوراً بعد تبدیل کرائیں۔
اس ضمن میں محکمہ شیپ ہسبنڈری کے متعلقہ بلاک آفیسر یا ضلع آفیسرسے رابطہ قائم کریں ۔*

شائع کردہ:
شعبہ انفارمیشن و پبلسٹی ڈائریکٹریٹ وآف شیپ ہسبنڈری، لالمنڈی، سرینگر،کشمیر

****